ہے اس کا دعویٰ وہ رہنے کو سب کو گھر دے گا
Moderator: Muzaffar Ahmad Muzaffar
- ismail ajaz
- -
- Posts: 486
- Joined: Tue Jan 13, 2009 12:09 pm
ہے اس کا دعویٰ وہ رہنے کو سب کو گھر دے گا
یہ کلام ۱۹ مارچ ۲۰۲۴ میں لکھا گیا تھا
قارئین کرام ایک تازہ کلام لے کر حاضرِ خدمت ہوں ، امید ہے پسند آئے گا
عرض کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اندھیرا دل سے جو نفرت کا دور کر دے گا
وہ اپنی زیست میں الفت کا نور بھر دے گا
جسے ملا نہیں رہنے کو کوئی گھر یارو
ہے اس کا دعویٰ وہ رہنے کو سب کو گھر دے گا
غرور جس نے کیا منہ کے بل گرا لوگو
زمانہ اس کی تباہی کی خود خبر دے گا
وہ کہہ رہا تھا میں سب کو رلاؤں گا اک دن
اسے قفس سے بھلا کون اب مفر دے گا
کتر کے رکھ دیے صیّاد نے ہیں پر اس کے
اڑان بھرنے کو پنچھی کو کون پر دے گا
جو بویا تم نے تھا اپنی حماقتوں کا بیج
شعور کا تمہیں وہ کس طرح ثمر دے گا
محبتوں سے کبھی تم بھی کوئی بات کرو
تمہارا لہجہ محبت میں رنگ بھر دے گا
ہر ایک شخص یہاں ہے بہت شریف خیالؔ
ملے گا جس کو بھی موقع وہ ہاتھ کر دے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی توجہ کا طلبگار
اسماعیل اعجاز خیالؔ
- Attachments
-
- ہے اس کا دعویٰ وہ رہنے کو سب کو گھر دے گا.jpg (16.46 KiB) Viewed 1274 times
محبّتوں سے محبّت سمیٹنے والا
خیالؔ آپ کی محفل میں آج پھر آیا
muHabbatoN se muHabbat sameTne waalaa
Khayaal aap kee maiHfil meN aaj phir aayaa
Ismail Ajaz Khayaal
(خیال)