نُكتَگُو - محمد طارق غازي

Moderator: munir-armaan-nasimi


نُكتَگُو - محمد طارق غازي

Postby sbashwar » Fri Apr 10, 2009 7:26 am


تیس سال سے زیادہ عرصہ ہوا، کلکتہ کے ایک انگریزی اخبار میں خبر شائع ہوئی تھی کہ شہر میں کسی حادثہ کا شکار ہوجانے والے ایک شخص کی لاش بہت دیر تک سڑک پر پڑی رہی اور راہ گیر اس کے پاس سے یوں گزرتے رہے جیسے وہاں مٹی کا تودہ یا لکڑی کا لٹھا پڑاہو. میں وہ خبر پڑھ کر ہی اتنا رنجیدہ ہوا تھا کہ اس روز عصر جدید کے ادارئے کا عنوان ہی ‘‘وہ موت’’ رکھا تھا.آج اخبارات اور ٹیلیوژن پر روزانہ جانے کتنی انسانی اموات کا تذکرہ یوں ہوتا ہے جیسے نمک اور مرچ کے بازار بھا ؤ بتائے جا رہے ہوں. انسان انسان سے اتنا لاتعلق تو کبھی نہ تھا، انسان کشی کا مظاہرہ تو انسان نے شائد چنگیز و ہلاکو کے دور ہی میں کیا تھا. اس سے پہلے اور بیسویں مسیحی صدی سے پہلے تو انسان خاصا انسان سا ہوتا تھا. فرق کیوں پڑا، کہاں پڑا، کوئی بتائے گا کیا؟ شائد آج کسی کے پاس اس سوال کا جواب سوچنے کی فرصت بھی نہیں رہی. آج کے نکتگو 0019 میں جمع کئے ہوئے دردناک حقائق کی تعداد کروڑوں میں ہے. اور ان حقائق کو جمع کرنے میں دو ماہ کی بے خواب راتوں کا کوئی حساب نہیں ہے.


محمد طارق غازی

آٹوا ، کنیڈا - جمعہ 10 اپریل 2009
Attachments
Nuktagu01.gif
Nuktagu01.gif (50.68 KiB) Viewed 103 times
Nuktagu02.gif
Nuktagu02.gif (63.25 KiB) Viewed 103 times
Nuktagu03.gif
Nuktagu03.gif (68.32 KiB) Viewed 103 times
Nuktagu04.gif
Nuktagu04.gif (68.2 KiB) Viewed 103 times
Nuktagu05.gif
Nuktagu05.gif (69.22 KiB) Viewed 103 times
سالم احمد باشوار
http://www.abdullahnazir.com
User avatar
sbashwar
-
-
 
Posts: 1500
Joined: Wed Dec 08, 2004 1:25 pm
Location: Jeddah

Return to Muhammad Tariq Ghazi

Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest


URDU SITES: aalmi_akhbar   abdullah nazir   akhbar o afkar   aligarians   bbcurdu   bhatkallys   cnn   dr_ahmad_ali_barqi_azmi   etemaad   Gulam Rabbani Fida   inquilab   Jahan-E-Naat   milli_gazette   muneer_armaan   munsif   sarwar_raz   shaharnama   siasat   sukhanwar   urduanjuman   urduduniya   Urdu designed poetry   urduhyd   urduseek   urdustan   urdutimes   voice_of_america